اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں نائب صدر طارق الہاشمی اور المالکی کے معاونین بھی موجود تھے۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ یہ ملاقات نہایت دوستانہ ماحول میں ہوئی اور اس میں عراق کے سیاسی حالات پر بات چیت ہوئی اور فریقین نے عراقیوں کے تعاون اور حکومت کی تشکیل کے لئے بنیادی ضروری مقدمات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تا کہ جمہوریت کا عراقی تجربہ کامیابی سے ہمکنار ہوسکے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین ملک کی ترقی و پیشرفت اور جمہوریت کی تقویت کے حوالے سے حاصل ہونے والی پیشرفت کے سلسلے میں متفق الرائے تھے۔یادرہے کہ دو روز قبل المالکی اور عمار الحکیم نے "ملی ہم پیمانی" نامی نئے اتحاد کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ اور شیعیان عراق کا یہ وسیع تر اتحاد حکومت کی تیز رفتار تشکیل کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے۔ عراقی پارلیمان کا پہلا اجلاس 14 جون کو منعقد ہورہا ہے اور اسی اجلاس میں ملک کا سب سے بڑے پارلیمانی گروپ سے حکومت کی تشکیل کی اپیل کی جائے گی۔ وسیع تر اتحاد "نیشنل الائنس یا ملی ہم پیمانی" عراق میں حکومت سازی کے لئے معرض وجود میں آئی ہے اور اب عراقی شیعہ نیشنل الائنس اور حکومت قانون الائنس کے اتحادوں کے درمیان حکومت سازی کے اعلان کے بعد اس بات کی امید ہو چلی ہے کہ دونوں شیعہ جماعتیں بآسانی حکومت سازی کے مرحلے میں کامیاب ہو جائیں گی۔واضح رہے کہ چالیس نشستیں حاصل کرنے والی کردستان الائنس نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت سازی کے لئے شیعہ جماعتوں کے اتحاد کی حمایت کرے گی جبکہ 91نشستیں حاصل کر نے والے العراقیہ اتحاد کے سربراہ ایاد علاوی حکومت سازی کے لئے مطلوبہ 163پارلیمینٹرینز کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس سے قبل آیتاللہ العظمی سیستانی نے حکومت کی تشکیل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔انھوں نے حال ہی میں ملاقات کے لئے آنے والے حجتالاسلام "سید عمار حکیم" کو ہدایت کی تھی کہ کامیاب جماعتیں حکومت کی تشکیل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
دریں اثناء عراق کی نیشنل الائنس کے رکن سید عمار حکیم نے علاوی ـ مالکی ملاقات کی طرف اشاره کرتے ہوئے ایاد علاوی کو پارلیمان کی سربراہی کا عہدہ سونپنے کا عندیہ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہونے والے تین اہم اتحادوں کو تین اہم عہدے یعنی صدارت، وزارت عظمی اور پارلیمان کی سربراہی، سونپ دیئے جائیں گے؛ یوں وزارت عظمی کا عہدہ قومی الائنس کے حصے میں آئے گا، صدارت کردستان الائنس کو ملے گی اور پارلیمان کی سربراہی کا عہدہ العراقیہ کو دیا جائے گا۔
........
/110